سی بی اے شیئرز سے غیر فعال آمدنی کیسے حاصل کریں؟ مکمل عملی رہنمائی
G-38NZSTDX50
ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہیں کہ انسان سمجھتا ہیں کہ میرے پاس وقت نہی ہیں تو میں نے وقت کو ضایغ کرنا چھوڑ دیا
انسانی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر انسان کو اکثر دیر سے ہوتی ہے، لیکن وقت ان سب سے زیادہ قیمتی نعمت ہے۔ وقت نہ نظر آتا ہے، نہ چھوا جا سکتا ہے، مگر اس کے اثرات زندگی کے ہر لمحے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ وقت دراصل زندگی کی سانسوں کی مانند ہے؛ جو سانس گزر جائے وہ کبھی واپس نہیں آتی، اسی طرح جو وقت گزر جائے وہ بھی کبھی واپس نہیں آتا۔
ہم پیسہ کھو دیں تو دوبارہ کما سکتے ہیں، صحت خراب ہو جائے تو علاج ممکن ہے، دوست ناراض ہو جائیں تو دوبارہ راضی کیے جا سکتے ہیں، مگر وقت کا نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وقت ہی انسان کی اصل دولت ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرتا ہے، وہ اپنی زندگی میں نظم و ضبط، کامیابی اور سکون حاصل کر لیتا ہے۔
اگر اپ جاننا چاہتے ہیں کہ ناکامی کیا ہے اور کامیابی کیا ہیں تو یہ ارٹیکل پڑھیں
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی عظیم اور کامیاب لوگ گزرے ہیں، انہوں نے وقت کی قدر کو اپنی زندگی کا بنیادی اصول بنایا۔ چاہے وہ سائنسدان ہوں، بزنس مین ہوں، ادیب ہوں یا کھلاڑی، سب کی کامیابی کے پیچھے وقت کا درست استعمال موجود ہوتا ہے۔
وقت کی پابندی (Punctuality) کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو شخص اپنے وقت کا پابند نہیں ہوتا، وہ دوسروں کے وقت کا بھی احترام نہیں کرتا، اور ایسا شخص کبھی بھی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ وقت کی پابندی انسان میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اعتماد پیدا کرتی ہے، جو ہر کامیاب شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔
جو لوگ صبح جلدی اٹھتے ہیں، اپنے دن کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور ہر کام مقررہ وقت پر انجام دیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ زندگی میں ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ وقت کو فضول کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں، وہ بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتے
آج کے جدید دور میں وقت ضائع کرنے کے ذرائع بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ انسان کو اندازہ بھی نہیں ہوتا اور قیمتی گھنٹے ضائع ہو جاتے ہیں۔ چند اہم عوامل درج ذیل ہیں:
موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسان کی زندگی کو بہت آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کا بے جا استعمال وقت کا سب سے بڑا ضیاع ہے۔ فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور انسٹاگرام پر گھنٹوں گزار دینا انسان کو اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتا ہے۔
بہت سے لوگ آج کا کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ عادت وقت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ جو کام آج ہو سکتا ہے، اگر اسے کل پر چھوڑ دیا جائے تو نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ کاموں کا بوجھ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔
بلا وجہ بحث کرنا، فضول گفتگو کرنا اور دوسروں کی باتوں میں وقت ضائع کرنا بھی وقت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ عقلمند انسان وہ ہے جو غیر ضروری باتوں سے دور رہتا ہے اور اپنے وقت کو مفید کاموں میں صرف کرتا ہے۔
کچھ لوگ خود کو مصروف دکھانے کے لیے غیر ضروری کاموں میں الجھے رہتے ہیں۔ ایسے کام جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، وہ صرف وقت ضائع کرتے ہیں اور انسان کو تھکا دیتے ہیں۔
---
اگر انسان وقت کو صحیح طریقے سے منظم کر لے تو وہ اپنی زندگی کو کامیابی اور سکون کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ چند اہم طریقے درج ذیل ہیں:
ہر دن کے آغاز میں اپنے کاموں کی فہرست بنائیں۔ اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ آج آپ کو کیا کرنا ہے اور کس کام کو کتنی اہمیت دینی ہے۔ فہرست بنانے سے ذہن میں وضاحت پیدا ہوتی ہے اور وقت کا ضیاع کم ہوتا ہے۔
ہر کام یکساں اہم نہیں ہوتا۔ کچھ کام زیادہ ضروری ہوتے ہیں اور کچھ کم۔ اس لیے سب سے اہم کام پہلے کریں اور غیر ضروری کاموں کو آخر میں رکھیں۔
اپنے دن کو حصوں میں تقسیم کریں۔ پڑھائی، کام، عبادت، آرام اور تفریح کے لیے الگ الگ وقت مقرر کریں۔ اس طرح زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے اور ہر کام وقت پر مکمل ہوتا ہے۔
ہر شخص اور ہر کام کو وقت دینا ممکن نہیں ہوتا۔ جو کام آپ کے مقصد میں مددگار نہ ہو، اس کے لیے "نہ" کہنا سیکھیں۔ اس سے آپ اپنے وقت کو زیادہ اہم کاموں کے لیے بچا سکتے ہیں۔
کبھی کبھار اپنے وقت کا جائزہ لیں کہ آپ دن میں کس کام پر کتنا وقت صرف کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا اور آپ بہتر منصوبہ بندی کر سکیں گے۔
پوموڈورو تکنیک وقت کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کا ایک مشہور اور ثابت شدہ طریقہ ہے۔ اس میں آپ 25 منٹ مسلسل کام کرتے ہیں اور پھر 5 منٹ کا مختصر وقفہ لیتے ہیں۔ اس طرح دماغ تازہ رہتا ہے، توجہ برقرار رہتی ہے اور کام کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
ان شاء اللہ اس پوموڈورو تکنیک پر اگلے مضمون میں تفصیل سے بتایا جائے گا کہ یہ کیا ہے، کیسے کام کرتی ہے، اور اس پر عمل کر کے ہم اپنی زندگی میں کس طرح مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
---
وقت کی قدر کرنے سے انسان کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں:
زندگی میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔
کامیابی کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔
ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے کیونکہ کام وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں
مذید پڑھیں کہ: ناکامی سے پیدا ہونے والے ذہنی بیماری اور اس کا علاج کیس مکمن ہیں
دوسروں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے۔
انسان اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔
جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہ نہ صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرتے ہیں بلکہ روحانی سکون بھی پاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے لمحوں کو ضائع نہیں کیا۔
---
نوجوان نسل کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے۔ اگر نوجوان وقت کی قدر کرنا سیکھ جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ پورے معاشرے کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے نوجوان زیادہ تر وقت موبائل، گیمز اور فضول مشاغل میں ضائع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ ناکامی اور پچھتاوے کی صورت میں نکلتا ہے۔
اگر نوجوان اپنے وقت کو تعلیم، ہنر سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے میں صرف کریں تو وہ مستقبل کے کامیاب لیڈر، سائنسدان اور کاروباری شخصیات بن سکتے ہیں۔
---
اسلام میں بھی وقت کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے۔ قرآن پاک میں سورۃ العصر میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر انسان کو نقصان سے خبردار کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، جس کا صحیح استعمال کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی وقت کی قدر کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر بہت سے لوگ نہیں کرتے: صحت اور فراغت۔ اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے وقت اور صحت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
---
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت انسان کی زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ جو وقت کو ضائع کرتا ہے، وقت اسے ضائع کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر لمحے کو قیمتی سمجھیں، اپنے دن کی منصوبہ بندی کریں، اور وقت کو مفید کاموں میں صرف کریں۔
آج اگر ہم نے وقت کی قدر کرنا سیکھ لیا تو ہمارا مستقبل روشن ہو سکتا ہے، لیکن اگر ہم نے وقت کو فضول کاموں میں ضائع کر دیا تو ہمیں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
لہٰذا آج ہی سے عہد کریں کہ ہم وقت کی قدر کریں گے اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو کامیابی اور بھلائی کے لیے استعمال کریں گے۔
👍
Comments