سی بی اے شیئرز سے غیر فعال آمدنی کیسے حاصل کریں؟ مکمل عملی رہنمائی
G-38NZSTDX50
آج کے دور میں کامیابی کے بارے میں ایک عام تصور یہ ہے کہ اچھی ڈگری حاصل کرنا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ اگر وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے تو ان کا مستقبل محفوظ ہوگا۔ مگر بدلتی ہوئی دنیا اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے: کیا واقعی ڈگری ہی کامیابی کی ضمانت ہے، یا ہنر اس سے بھی زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے، مگر صرف ڈگری ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں۔ آج کے دور میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جن کے پاس بڑی بڑی ڈگریاں ہیں لیکن وہ عملی زندگی میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دوسری طرف کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس رسمی ڈگریاں نہیں لیکن اپنے ہنر اور صلاحیت کی بدولت دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔
اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تعلیم اور ہنر دونوں اہم ہیں، لیکن عملی کامیابی کے لیے ہنر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ڈگری کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ تعلیم انسان کو علم، شعور اور سمجھ بوجھ عطا کرتی ہے۔ یونیورسٹی یا کالج کی تعلیم انسان کو مختلف نظریات، تحقیق اور علمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
علمی بنیاد فراہم کرتی ہے
سوچنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے
کئی پیشوں میں داخلے کے لیے ضروری ہوتی ہے
سماجی اعتبار اور اعتماد میں اضافہ کرتی ہے
مثال کے طور پر ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا استاد بننے کے لیے باقاعدہ تعلیم اور ڈگری حاصل کرنا لازمی ہے۔ ان شعبوں میں ڈگری کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ صرف ڈگری حاصل کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
آج کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل معیشت نے کام کرنے کے طریقوں کو بدل دیا ہے۔ اب صرف نظریاتی علم کافی نہیں بلکہ عملی مہارت بھی ضروری ہے۔
بہت سے نوجوان سالوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اس لیے بے روزگار رہ جاتے ہیں کیونکہ:
ان کے پاس عملی تجربہ نہیں ہوتا
انہیں جدید مہارتیں نہیں آتیں
مارکیٹ کی ضروریات سے وہ واقف نہیں ہوتے
مثال کے طور پر اگر کسی کے پاس بی اے یا ایم اے کی ڈگری ہے مگر اسے کمپیوٹر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائن یا کسی عملی ہنر کا علم نہیں تو اس کے لیے اچھی نوکری حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی لیے آج کے دور میں صرف ڈگری نہیں بلکہ قابلِ استعمال ہنر زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
ہنر سے مراد وہ عملی مہارت ہے جو انسان کو کسی کام کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے قابل بناتی ہے۔ ہنر انسان کو خود مختار بناتا ہے اور اسے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔
گرافک ڈیزائن
ویب ڈویلپمنٹ
ڈیجیٹل مارکیٹنگ
ویڈیو ایڈیٹنگ
درزی کا کام
الیکٹریشن یا پلمبر کا کام
فری لانسنگ
یہ وہ مہارتیں ہیں جن کی آج دنیا بھر میں بہت زیادہ مانگ ہے۔
دنیا میں کئی ایسے کامیاب لوگ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ کامیابی کے لیے صرف ڈگری ضروری نہیں بلکہ ہنر، محنت اور تخلیقی سوچ زیادہ اہم ہے۔
کئی بڑے کاروباری افراد نے یونیورسٹی کی تعلیم مکمل نہیں کی مگر اپنی مہارت اور وژن کی بدولت بڑی کمپنیاں قائم کیں۔
بہت سے فری لانسرز گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔
یوٹیوب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن کاروبار نے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر انسان کے پاس ہنر اور سیکھنے کا جذبہ ہو تو کامیابی کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔
آج کا دور اسکل بیسڈ اکانومی کا دور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں ان لوگوں کی زیادہ قدر ہے جو عملی مہارت رکھتے ہیں۔
فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر گرافک ڈیزائنرز، ویڈیو ایڈیٹرز اور ڈیجیٹل مارکیٹرز کی بہت مانگ ہے
آن لائن بزنس نے نئے مواقع پیدا کیے ہیں
ٹیکنالوجی کی ترقی نے نئی مہارتوں کو جنم دیا ہے
اس لیے جو نوجوان صرف ڈگری پر انحصار کرتے ہیں وہ پیچھے رہ سکتے ہیں، جبکہ جو لوگ ہنر سیکھتے ہیں وہ تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں۔ دراصل کامیابی کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ تعلیم اور ہنر دونوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔
اگر کسی کے پاس:
مضبوط تعلیمی بنیاد ہو
ساتھ ہی عملی مہارت بھی ہو
تو اس کے کامیاب ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم مارکیٹنگ میں ڈگری کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا ہنر بھی سیکھ لے تو وہ مارکیٹ میں زیادہ قیمتی بن جاتا ہے۔
اگر نوجوان واقعی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں چند باتوں پر ضرور توجہ دینی چاہیے۔
تعلیم حاصل کریں لیکن اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی عملی ہنر ضرور سیکھیں۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اس لیے مسلسل سیکھنا ضروری ہے۔
یوٹیوب، آن لائن کورسز اور فری لانسنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
انٹرن شپ، پارٹ ٹائم کام یا چھوٹے منصوبوں سے تجربہ حاصل کریں۔
کامیابی کے لیے مہارت کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی بھی ضروری ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ہنر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ اگر نوجوان صرف سرکاری نوکریوں کے انتظار میں رہیں تو بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
اگر نوجوان مختلف ہنر سیکھیں جیسے:
فری لانسنگ
آن لائن بزنس
ٹیکنیکل مہارتیں
تو وہ نہ صرف خود روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ڈگری کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ کامیابی کا صرف ایک ذریعہ ہے۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان علم کے ساتھ ہنر، محنت اور مستقل مزاجی کو بھی اپنائے۔
آج کے دور میں وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں۔ اگر تعلیم کے ساتھ عملی مہارت بھی حاصل کر لی جائے تو کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ صرف ڈگری کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور ایسے ہنر سیکھیں جو انہیں عملی زندگی میں آگے بڑھنے میں مدد دیں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ کے خیال میں صرف ڈگری کامیابی کے لیے کافی ہے یا ہنر زیادہ اہم ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
اگر آپ کو یہ مضمون مفید لگا تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ بھی شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس اہم موضوع سے آگاہ ہو سکیں
Comments